مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

ایل بی ڈبلیو کے اندر: 3 نکاتی فیصلہ

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ صرف گیند کے پیڈ سے ٹکرانے پر نہیں ہوتا؛ میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 کے تحت گیند، پچنگ، اثر اور وکٹ سے ٹکرانے کے امکان سمیت کم از کم 4 بنیادی عناصر دیکھے جاتے ہیں۔ یہ....

18 اکتوبر، 2026 5 min read
ایل بی ڈبلیو کے اندر: 3 نکاتی فیصلہ
❦

ایل بی ڈبلیو کے اندر: 3 نکاتی فیصلہ

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ صرف گیند کے پیڈ سے ٹکرانے پر نہیں ہوتا؛ میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 کے تحت گیند، پچنگ، اثر اور وکٹ سے ٹکرانے کے امکان سمیت کم از کم 4 بنیادی عناصر دیکھے جاتے ہیں۔ یہ قانون ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ میں یکساں بنیادی اصول رکھتا ہے، اگرچہ ڈی آر ایس فیصلے میں اضافی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔ گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے، پچنگ ٹانگ کی وکٹ کے باہر نہیں ہونی چاہیے، اثر وکٹوں کے درمیان ہونا چاہیے، اور گیند کے وکٹ سے ٹکرانے کا امکان ہونا ضروری ہے۔ آف اسٹمپ کے باہر اثر کی صورت میں بیٹر کا حقیقی شاٹ کھیلنے کی کوشش بھی اہم بن جاتی ہے۔ درست فیصلہ سمجھنے کے لیے پہلے قانون 36 پڑھیں، پھر پچنگ، اثر اور وکٹ ٹکرانے کی ترتیب میں صورتحال کا جائزہ لیں۔

A cricket umpire raises one finger beside the stumps during a tense international match

خلاصہ فیصلہ کیا ہے؟

ایل بی ڈبلیو تب دیا جاتا ہے جب گیند نو بال نہ ہو، بیٹر کے جسم سے وکٹ کے سامنے ٹکرائے، گیند کی پچنگ اور اثر قانون 36 کی حدود میں ہوں، اور امپائر کے مطابق گیند وکٹ سے ٹکراتی۔ اگر گیند پہلے بیٹ سے لگ جائے، پچنگ ٹانگ کی وکٹ کے باہر ہو، یا اثر وکٹوں کے باہر ہو، تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں بنتا۔

یہاں ایک ضدی مگر ضروری اصول یاد رکھیں: صرف پیڈ پر گیند لگنا ثبوت نہیں، بلکہ مکمل واقعاتی سلسلہ ثبوت ہے۔ امپائر پہلے یہ دیکھتا ہے کہ گیند نو بال تو نہیں تھی، پھر یہ جانچتا ہے کہ بیٹر نے گیند کو بیٹ سے چھوا یا نہیں، گیند کہاں پچی، جسم سے کہاں لگی، اور وکٹ سے ٹکراتی یا نہیں۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 کے مطابق اگر گیند بیٹر کے جسم سے اس مقام پر ٹکرائے جہاں وکٹ کے سامنے سمجھا جائے، تو فیصلہ ممکن ہے، مگر تمام شرائط ایک ساتھ پوری ہونا ضروری ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قوانین قانون کی عملی تشریح کے لیے بنیادی حوالہ ہیں۔ باؤلنگ تجزیہ میں اسی ترتیب کو میچ جائزوں، پی ایس ایل کوریج اور گیند بہ گیند اعداد کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید بنیادی پس منظر کے لیے کرکٹ کے بنیادی قوانین کی رہنمائی ملاحظہ کریں۔

اگر آپ امپائر کے اشارے کے بجائے مکمل قانونی ترتیب سمجھنا چاہتے ہیں، تو یہ مختصر رہنمائی مدد دے گی۔

مزید جانیں

کھلاڑی حقیقت میں کیا دیکھتے ہیں؟

میدان میں بیٹر، بولر اور وکٹ کیپر عموماً 3 چیزیں فوری طور پر دیکھتے ہیں: گیند کی لائن، پیڈ سے ٹکرانے کی جگہ، اور گیند کا ممکنہ راستہ۔ ٹی20 میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب رفتار رکھنے والی گیند پر یہ فیصلہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں بنتا ہے، اس لیے انسانی نظر اکثر گیند کے آخری حصے کو مکمل طور پر نہیں دیکھ پاتی۔

بیٹر کے لیے سب سے اہم فرق یہ ہے کہ گیند بیٹ سے پہلے جسم پر لگی یا نہیں۔ اگر بیٹر نے بیٹ آگے رکھا اور گیند کنارے سے لگ کر پیڈ تک پہنچی، تو ایل بی ڈبلیو کا دعویٰ کمزور ہو جاتا ہے؛ لیکن اگر پیڈ پہلے آیا، تو باقی شرائط زیرِ بحث رہتی ہیں۔ وکٹ کیپر کی اپیل، سلپ فیلڈرز کا زاویہ اور بولر کا ردعمل ثبوت نہیں، صرف میچ کا شور ہیں۔ امپائر کو اپیل کے بعد قانون دیکھنا ہوتا ہے، ہجوم کی آواز نہیں۔

قانونی فیصلے کو اس ترتیب سے پرکھیں:

  1. گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے۔
  2. گیند بیٹ سے پہلے جسم سے ٹکرائی ہو۔
  3. گیند ٹانگ کی وکٹ کے باہر نہ پچی ہو۔
  4. اثر وکٹوں کے درمیان یا قانون کی اجازت والی لائن میں ہو۔
  5. گیند وکٹ سے ٹکراتی، اگر جسم رکاوٹ نہ بنتا۔
  6. آف اسٹمپ کے باہر اثر ہونے پر حقیقی شاٹ کی کوشش کا جائزہ لیا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ باؤلر کی اندر آتی ہوئی گیند، جس کی پچنگ آف اسٹمپ کے اندر ہو اور اثر درمیانی وکٹ کے سامنے، ایل بی ڈبلیو کے لیے زیادہ مضبوط امیدوار بنتی ہے۔ اس کے برعکس لیگ اسٹمپ سے باہر پچ ہونے والی گیند چاہے پیڈ کو زور سے لگے، قانون 36 کے تحت ناٹ آؤٹ رہتی ہے۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون 36 میں اس فرق کی قانونی بنیاد موجود ہے۔

A batsman in white pads watches a red cricket ball strike his front leg before the stumps

ڈی آر ایس کے آنے سے فیصلے کی زبان بھی بدل گئی ہے۔ ہاک آئی یا بال ٹریکنگ گیند کے پچنگ، اثر اور وکٹ ٹکرانے کے ممکنہ راستے کو دکھاتی ہے، مگر یہ حقیقی واقعہ نہیں بلکہ پیش گوئی کا ماڈل ہے۔ اسی لیے وکٹ کے کنارے سے ٹکرانے والے نتائج میں امپائرز کال برقرار رہ سکتی ہے؛ ڈی آر ایس ہر قریبی فیصلے کو خودکار طور پر تبدیل نہیں کرتا۔ 50 فیصد سے کم وکٹ ہٹنگ کے اندازے کو مکمل آؤٹ فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے، جبکہ ٹیکنالوجی پروٹوکول اور مقابلے کے ضابطے کے مطابق حدیں مختلف انداز میں لاگو ہو سکتی ہیں۔

کون سی 3 چیزیں سب سے زیادہ اہم ہیں؟

ایل بی ڈبلیو میں سب سے اہم 3 عناصر پچنگ، اثر اور وکٹ ہٹنگ ہیں؛ تاہم نو بال اور بیٹ سے پہلے جسم پر لگنے کی شرط ان سب سے پہلے آتی ہے۔ گیند کہاں گری، کہاں لگی اور اگر بیٹر نہ روکتا تو وکٹ پر کہاں پہنچتی—یہی تین سوال فیصلہ کن ترتیب بناتے ہیں۔

1. پچنگ کہاں ہوئی؟

پچنگ کا مطلب گیند کا زمین سے پہلا رابطہ ہے، اور یہی نکتہ کئی اپیلوں کو فوراً ختم کر دیتا ہے۔ اگر دائیں ہاتھ کے بیٹر کے لیے گیند ٹانگ کی وکٹ کے باہر پچی، تو روایتی ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا، خواہ گیند بعد میں مڑ کر درمیانی وکٹ کو نشانہ بناتی دکھائی دے۔ آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر ایل بی ڈبلیو ممکن ہے، کیونکہ قانون پچنگ کو صرف ٹانگ کی وکٹ کے باہر روکنے کی شرط لگاتا ہے۔

یہاں عام ناظرین ایک اہم فرق بھول جاتے ہیں: پچنگ لائن اور اثر کی لائن الگ چیزیں ہیں۔ اسپنر کی گیند آف اسٹمپ کے باہر پچ ہو کر بیٹر کے پیڈ کو درمیانی وکٹ کے سامنے لگ سکتی ہے، جبکہ لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر یہی نتیجہ قانونی طور پر ممکن نہیں رہتا۔ باؤلنگ تجزیہ میں پچنگ مقام کو گیند کی رفتار، اسپن کی سمت اور بیٹر کے قدم کے ساتھ پڑھنا زیادہ درست ہے، صرف ٹیلی ویژن کے ایک فریم سے نہیں۔

2. جسم سے ٹکرانے کا اثر کہاں ہوا؟

اثر سے مراد وہ مقام ہے جہاں گیند بیٹر کے جسم سے ٹکراتی ہے، اور یہ مقام اس وقت بھی اہم رہتا ہے جب گیند وکٹوں کے عین سامنے ہو۔ اگر بیٹر نے آف اسٹمپ کے باہر پچی گیند کو کھیلنے کی حقیقی کوشش نہیں کی اور گیند پیڈ سے وکٹوں کے سامنے ٹکرائی، تو ایل بی ڈبلیو دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر بیٹر نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، تو آف اسٹمپ کے باہر اثر کا فیصلہ مختلف ہو سکتا ہے۔

قانون میں “حقیقی کوشش” کوئی سادہ رفتار کا پیمانہ نہیں۔ بیٹ کا نیچے آنا، جسم کا رخ، شاٹ کی سمت اور بیٹر کا توازن مجموعی طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ پیڈ کو بچانے کے لیے بیٹ کو آخری لمحے میں ہٹانا ہر مرتبہ حقیقی شاٹ نہیں سمجھا جائے گا۔ اسی طرح بیٹ کو جسم کے پیچھے رکھنا بھی خودکار طور پر دانستہ رکاوٹ ثابت نہیں کرتا؛ امپائر کو شاٹ کے ارادے اور حرکت کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔

3. کیا گیند وکٹ سے ٹکراتی؟

یہ سب سے زیادہ ٹیکنالوجی پر منحصر مرحلہ ہے۔ امپائر یا ڈی آر ایس یہ دیکھتا ہے کہ اگر بیٹر کا جسم رکاوٹ نہ بنتا تو گیند وکٹوں کو لگتی یا نہیں۔ گیند کا وکٹ کے کنارے سے گزرنا، سوئنگ کے بعد سمت بدلنا، اسپن کا اثر اور بیٹر کے آگے بڑھنے کا فاصلہ نتیجے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

ڈی آر ایس میں گیند ہٹنگ کے نتائج عموماً “وکٹ ہٹنگ”، “امپائرز کال” یا “ناٹ ہٹنگ” کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ “امپائرز کال” کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی ناکام ہوئی؛ اس کا مطلب ہے کہ نتیجہ مقررہ مارجن کے اندر ہے اور میدان کے امپائر کا اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ یہ وہ عملی نکتہ ہے جسے بہت سے عام مضامین چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ ایک ریویو بچانے یا ضائع کرنے میں یہی فرق 1 وکٹ کا ہو سکتا ہے۔

Hawk-Eye review screen showing pitching, impact, and wicket trajectory beside a cricket pitch

ان 3 بنیادی عناصر کو ایک جدول میں یوں سمجھیں:

مرحلہ بنیادی سوال عام نتیجہ
پچنگ گیند کہاں گری؟ ٹانگ کی وکٹ کے باہر ہو تو ایل بی ڈبلیو نہیں
اثر گیند جسم سے کہاں لگی؟ وکٹوں کے سامنے اثر ہو تو امکان بڑھتا ہے
وکٹ ہٹنگ گیند آگے جا کر کیا کرتی؟ وکٹ سے ٹکرانے کی صورت میں آؤٹ ممکن
ابتدائی رابطہ بیٹ پہلے لگا یا جسم؟ بیٹ پہلے لگے تو ایل بی ڈبلیو ختم

کسی مخصوص فیصلے کا باریک تجزیہ کرتے وقت ڈی آر ایس اور امپائرز کال کی مکمل وضاحت پڑھیں، کیونکہ ریویو کی دستیابی، باقی ریویوز کی تعداد اور مقابلے کے ضابطے بھی حکمت عملی بدل سکتے ہیں۔

اعداد کی زبان میں ایک عملی مشاہدہ یہ ہے کہ بیٹر جتنا زیادہ کریز سے باہر نکلتا ہے، اتنا ہی پچنگ اور اثر کے مقامات کا فرق بڑھ سکتا ہے۔ مگر یہ کہنا غلط ہوگا کہ آگے نکلنے والا ہر بیٹر ایل بی ڈبلیو سے محفوظ ہے؛ گیند کا زاویہ، رفتار اور بیٹر کا واپس آنے کا وقت زیادہ اہم ہیں۔ اسی طرح ریورس سوئنگ میں گیند کی ابتدائی لائن اور آخری سمت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے صرف پچنگ نقطہ دیکھ کر فیصلہ کرنا خطرناک ہے۔

اگر آپ میچ کے فیصلوں کو محض اپیل نہیں بلکہ قابلِ جانچ ڈیٹا کے طور پر پڑھنا چاہتے ہیں، تو اگلا تجزیہ اسی مقصد کے لیے ہے۔

تفصیلی تجزیہ دیکھیں

مشکل صورتیں اور چھپی ہوئی شرائط کیا ہیں؟

مشکل ایل بی ڈبلیو فیصلوں میں نو بال، بیٹ اور پیڈ کا بیک وقت رابطہ، آف اسٹمپ کے باہر اثر، بیٹر کی شاٹ کی کوشش، اور امپائرز کال سب سے زیادہ الجھن پیدا کرتے ہیں۔ قانون 36 کا اطلاق تصویری تاثر پر نہیں بلکہ رابطے کی ترتیب، گیند کے راستے اور قانونی حدود کے مجموعے پر ہوتا ہے۔

نو بال کی صورت

نو بال پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا، چاہے گیند پیڈ سے ٹکرا کر وکٹ کو واضح طور پر نشانہ بناتی ہو۔ یہ ایک سخت ابتدائی فلٹر ہے: پہلے فیلڈ امپائر یا ٹیکنالوجی یہ دیکھتی ہے کہ فرنٹ فٹ، بیک فٹ یا کسی دوسرے نو بال قانون کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں، پھر ایل بی ڈبلیو کا سوال آتا ہے۔ اسی گیند پر رن آؤٹ یا اسٹمپنگ کے قواعد الگ رہتے ہیں، اس لیے نو بال کا مطلب یہ نہیں کہ گیند سے کوئی آؤٹ ممکن نہیں۔

بیٹ اور پیڈ کا ایک ساتھ رابطہ

اگر بیٹ اور جسم تقریباً ایک ہی لمحے گیند سے ٹکرائیں، تو فیلڈ امپائر کے لیے انسانی آنکھ سے فیصلہ مشکل ہو سکتا ہے۔ ڈی آر ایس میں الٹرا ایج یا سنیکومیٹر جیسے صوتی شواہد رابطے کی ترتیب سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، مگر ہر مقابلے میں دستیاب ٹیکنالوجی یکساں نہیں ہوتی۔ اگر پہلے بیٹ لگا ہو، تو ایل بی ڈبلیو نہیں؛ اگر پہلے پیڈ لگا ہو، تو باقی شرائط کا جائزہ جاری رہتا ہے۔

آف اسٹمپ کے باہر اثر

یہ سب سے زیادہ غلط سمجھی جانے والی صورت ہے۔ آف اسٹمپ کے باہر اثر ہونے پر بیٹر نے اگر حقیقی شاٹ کی کوشش کی ہو تو ایل بی ڈبلیو ختم ہو سکتا ہے، لیکن شاٹ نہ کھیلنے کی صورت میں گیند پچنگ، اثر اور وکٹ ہٹنگ کی دوسری شرائط پوری کر کے آؤٹ دے سکتی ہے۔ دفاعی انداز میں بیٹ کو پیچھے رکھنا، گیند کو چھوڑ دینا، یا جسم کو جان بوجھ کر لائن میں لانا—ہر حرکت کا الگ قانونی مطلب نکل سکتا ہے۔

بیٹر کی پوزیشن اور گیند کا زاویہ

بیٹر کریز پر کہاں کھڑا تھا، یہ پچنگ مقام کی نسبت بدل سکتا ہے، مگر وکٹ کی قانونی چوڑائی نہیں بدلتا۔ مثال کے طور پر اگر بیٹر آف اسٹمپ سے باہر کھڑا ہو کر گیند کو لیگ سائیڈ کی طرف آنے دیتا ہے، تو امپائر کو جسم کے اثر اور وکٹ کے حقیقی مقام کے درمیان تعلق دیکھنا ہوگا۔ کریز سے باہر نکلنے پر اسٹمپنگ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، اس لیے بیٹر ایل بی ڈبلیو سے بچنے کے لیے ایک خطرہ کم کر کے دوسرا بڑھا سکتا ہے۔

Close-up of cricket pads, bat edge, and red ball frozen at the moment of contact

اپیل اور ریویو کی حکمت عملی

کپتان کو ہر پیڈ اپیل پر ریویو نہیں لینا چاہیے۔ اگر گیند واضح طور پر لیگ اسٹمپ کے باہر پچی ہے، تو ریویو ضائع ہونے کا امکان بہت بلند ہے؛ اگر بیٹ اور پیڈ کا رابطہ قریب قریب ہوا ہے، تو الٹرا ایج فیصلہ بدل سکتا ہے؛ اور اگر گیند وکٹ کے کنارے سے گزر رہی ہے، تو امپائرز کال کا خطرہ موجود ہے۔ یہ تین الگ حالات ہیں، مگر میدان میں اکثر انہیں ایک ہی “قریبی اپیل” سمجھ لیا جاتا ہے۔

ڈی آر ایس کے عملی نظام میں ریویو کی تعداد اور امپائرز کال کے ضابطے مقابلے کے فارمیٹ سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ، ایک روزہ کرکٹ اور ٹی20 میں بنیادی قانون یکساں رہتا ہے، لیکن ریویو پروٹوکول، وقفہ اور دستیاب ٹیکنالوجی کا اطلاق مقابلے کے منتظمین طے کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی پلیئنگ کنڈیشنز دیکھے بغیر کسی ایک سیریز کے ریویو اصول کو ہر میچ پر لاگو کرنا درست نہیں۔

میریلیبون کرکٹ کلب قانون 36 کی روح کو مختصر انداز میں یوں بیان کرتا ہے: “بیٹر کو گیند کے وکٹ سے ٹکرانے سے جسم کے ذریعے روکنے پر آؤٹ دیا جا سکتا ہے۔” یہ جملہ مکمل فیصلہ نہیں، بلکہ بنیادی تصور ہے؛ نو بال، پچنگ، اثر، بیٹ سے رابطہ اور وکٹ ہٹنگ کی شرائط پھر بھی ضروری رہتی ہیں۔

یہاں باؤلنگ تجزیہ کا ایک قابلِ عمل نکتہ ہے: اپیل سے پہلے گیند کی رفتار نہیں، گیند کی متوقع وکٹ لائن نوٹ کریں۔ 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سیدھی گیند جو درمیانی وکٹ کو نشانہ بناتی ہے، 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی باہر جاتی گیند سے زیادہ مضبوط ایل بی ڈبلیو موقع ہو سکتی ہے۔ رفتار اہم ہے، مگر لائن اور زاویہ فیصلہ بناتے ہیں۔

حتمی فیصلہ کیا ہے؟

ایل بی ڈبلیو کا درست فیصلہ 5 بنیادی سوالات کے جواب سے نکلتا ہے: کیا گیند نو بال تھی، کیا بیٹ پہلے لگا، گیند کہاں پچی، جسم سے کہاں لگی، اور کیا گیند وکٹ سے ٹکراتی؟ اگر ان میں سے ایک بنیادی شرط بھی قانون کے خلاف ہو، تو اپیل مسترد ہو سکتی ہے؛ اسی لیے صرف پیڈ پر گیند لگنے کو آؤٹ سمجھنا غلط ہے۔

شائقین کے لیے بہترین عملی طریقہ یہ ہے کہ ری پلے کو اسی ترتیب میں دیکھیں: پہلے نو بال لائن، پھر بیٹ کا رابطہ، اس کے بعد پچنگ، اثر اور آخر میں وکٹ ہٹنگ۔ ڈی آر ایس گرافک کو حتمی حقیقت کے بجائے قانونی ماڈل سمجھیں، خاص طور پر امپائرز کال میں۔ باؤلنگ تجزیہ کے میچ جائزوں میں بھی یہی اصول اپنایا جاتا ہے، تاکہ پاکستان، پی ایس ایل، ٹیسٹ اور ٹی20 مقابلوں کے فیصلے جذبات کے بجائے قابلِ جانچ شواہد سے سمجھے جائیں۔

مزید پیشہ ورانہ مطالعے کے لیے پی ایس ایل میں باؤلنگ لائن اور سوئنگ کا تجزیہ دیکھیں۔ یاد رکھیں: ایل بی ڈبلیو میں “لائن، اثر، وکٹ” کا فارمولہ مفید ہے، مگر اس سے پہلے “نو بال نہیں” اور “بیٹ پہلے نہیں” کی دو شرطیں لازماً چیک کریں۔

اب اس قانون کو میچ کے ہر بڑے فیصلے پر لاگو کرنے کے لیے یہ مختصر خلاصہ محفوظ رکھیں۔

قانونی خلاصہ پڑھیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کیا ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو وہ آؤٹ ہے جس میں بیٹر کے جسم سے ٹکرانے والی گیند، مخصوص قانونی شرائط پوری ہونے پر، وکٹ سے ٹکرانے والی ہو۔ گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے اور عام طور پر ٹانگ کی وکٹ کے باہر پچ نہیں ہونی چاہیے۔ امپائر پچنگ، اثر، بیٹ سے پہلے رابطے اور وکٹ ہٹنگ کو ایک ساتھ دیکھتا ہے۔

سوال: ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ کیسے کیا جاتا ہے؟

جواب: پہلے دیکھا جاتا ہے کہ گیند نو بال نہیں تھی اور بیٹ سے پہلے جسم سے لگی۔ اس کے بعد امپائر گیند کی پچنگ، پیڈ سے ٹکرانے کی جگہ اور ممکنہ وکٹ ہٹنگ کا جائزہ لیتا ہے۔ ڈی آر ایس میں ہاک آئی یا بال ٹریکنگ مدد دیتی ہے، مگر امپائرز کال کی صورت میں میدان کا اصل فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

سوال: ایل بی ڈبلیو اور بولڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو میں گیند جسم سے ٹکرا کر وکٹ کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ بولڈ میں گیند براہِ راست بیٹر کے بیٹ یا جسم سے پہلے وکٹ سے ٹکراتی ہے۔ بولڈ کے لیے پچنگ اور اثر کی وہی پابندیاں نہیں ہوتیں جو ایل بی ڈبلیو میں ہوتی ہیں۔ اگر گیند پیڈ سے لگنے کے بعد وکٹ گرا دے، تو پہلے ایل بی ڈبلیو کی شرائط دیکھی جاتی ہیں۔

سوال: کیا نو بال پر ایل بی ڈبلیو دیا جا سکتا ہے؟

جواب: نہیں، نو بال پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا۔ اگر فرنٹ فٹ یا کسی اور وجہ سے نو بال قرار پائے، تو اسی گیند پر ایل بی ڈبلیو ختم ہو جاتا ہے، چاہے گیند وکٹ کے سامنے پیڈ سے لگے۔ البتہ نو بال کے دوران رن آؤٹ یا بعض حالات میں اسٹمپنگ کے قواعد الگ رہتے ہیں۔

سوال: لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند ایل بی ڈبلیو کیوں نہیں ہوتی؟

جواب: قانون 36 کے تحت ٹانگ کی وکٹ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ اس پابندی کا مقصد بیٹر کو ایسی گیند پر سزا سے بچانا ہے جو وکٹ کی لائن سے باہر زمین پر گری ہو۔ گیند بعد میں اسپن یا سوئنگ سے وکٹ کی طرف آئے، تب بھی یہ بنیادی شرط تبدیل نہیں ہوتی۔

سوال: امپائرز کال کا مطلب کیا ہے؟

جواب: امپائرز کال کا مطلب ہے کہ ڈی آر ایس کا نتیجہ مقررہ قریبی حد کے اندر ہے، اس لیے میدان کے امپائر کا اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ یہ نہ مکمل طور پر ٹیکنالوجی کی ناکامی ہے اور نہ خودکار ناٹ آؤٹ یا آؤٹ۔ ریویو لینے سے پہلے کپتان کو پچنگ، اثر اور وکٹ ہٹنگ کے ممکنہ نتائج الگ الگ سمجھنے چاہییں۔

سوال: ایل بی ڈبلیو کے لیے ریویو کب لینا چاہیے؟

جواب: ریویو اس وقت لینا زیادہ مناسب ہوتا ہے جب بیٹ کا رابطہ مشکوک ہو، پچنگ واضح طور پر ٹانگ کی وکٹ کے باہر نہ ہو، اور وکٹ ہٹنگ کا امکان مضبوط دکھائی دے۔ واضح لیگ اسٹمپ پچنگ یا صاف بیٹ ایج پر ریویو ضائع ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ مقابلے کے ضابطے کے مطابق باقی ریویوز، امپائرز کال اور دستیاب ٹیکنالوجی بھی فیصلہ سازی میں شامل کریں۔

اگر روزانہ کرکٹ کے اعداد، پی ایس ایل فیصلوں اور باؤلنگ حکمت عملی کی مختصر مگر گہری بصیرت چاہیے، تو باؤلنگ تجزیہ کے تازہ جائزے پڑھتے رہیں۔

تازہ کرکٹ بصیرت حاصل کریں

§
❦

باؤلنگ تجزیہ · The Midnight Archive · An Exhibition of Thought

متعلقہ مضامین